بنگلور،30؍جنوری(ایس او نیوز) ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے ستمبر 2019 میں واپس لئے گئے ٹرافک ضابطوں سے متعلق بھاری جرمانوں کے حکم کو دوبارہ نافذ کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے منظور کردہ نئے موٹر وہیکل قانون کے مطابق ٹرافک ضابطوں کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں پر نظر ثانی کر تے ہوئے ریاستی حکومت نے انہیں کم کر دیا تھا اور یہ کارروائی گوا اور گجرات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کی گئی تھی اور اس کی بنیادی وجہ عوام کی طرف سے جرمانے کی رقومات میں بھاری اور نا قابل برداشت اضافہ کے خلاف احتجاجات تھے۔البتہ اب کرناٹک ریاستی حکومت ترمیم شدہ موٹر وہیکل قانون کے مطابق ہی جرمانوں کو نافذ کرے گی۔جہاں یہ کہا گیا ہے کہ جرمانوں میں اضافہ کو مختلف مرحلوں میں جاری کیا جائے گا، اس کے مکمل نفاذ کے لئے ابھی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔
کرناٹک کے وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن ساودی نے بتایا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے کئی ریاستی ٹرانسپورٹ وزراء کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا تھااور ان کے سامنے اس بات کو واضح کیا گیا کہ بھاری جرمانوں کا نفاذ کیوں ضروری ہے، ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ ”ہمیں وہ وجوہات معقول نطر آئی ہیں اسی لئے ہم نے اصل جرمانوں کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے“۔رپورٹوں کے مطابق ساودی نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں سڑک حادثوں کی وجہ سے جو اموات پیش آرہی ہیں ان کے نتیجہ میں ہندوستان کی امیج خراب ہو رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تمام بھاری جرمانوں کو ایک دم سے نافذ نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں پر واضح کیا ہے کہ جرمانوں کی رقم کو اس وقت تک کم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ صدر مملکت اس کی منظوری نہیں دیتے۔